تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں ، جن کے اخلاق اچھے ہیں

ضیاءاللہ صدیقی ندوی– وہ مقام جہاں اسلام کاسورج طلوع ہواتشدد،جہالت اور غیر مہذب حرکات کامرکز رہاہے۔عرب کے بدواپنی لڑکیوں کوزندہ دفن کردیاکرتے تھے۔مختلف قبیلے ایک دوسر ے سے جنگ میں ملوث رہتے تھے۔اخلاقی قدروں کانام ونشان تک نہیں تھا۔ان حالات کے درمیان سرکاردوعالم نے معاشرہ میں رفاہی کاموں کی ذمہ داری سنبھالی۔ مذہب اسلام کاپہلا مقصد ،جیساکہ پہلے واضح کیاجاچکاہے،دنیا میں امن وسلامتی قائم کرنا ہے۔اس مقصد کے تناظرمیں اس مذہب کا نام اسلام رکھاگیا۔محمد نے سب سے پہلے مدینہ میں ایک مملکت قائم کی اور انصاف اورمساوات پرمبنی نصب العین پیش کیا۔انہوں نے صحابہ کرام کے ساتھ اپنی بقاءکے لئے (دولت اورمنصب کے لئے نہیں)کافروں سے جنگ بھی کی۔انہوں نے متعددجنگیں جیتیںاور جنگی قیدیوں کورہاکرکے اوران کی عورتوں کوباعزت ومحفوظ ان کے گھروں کوبھیج کرقابل مثال سلوک پیش کیا۔دشمنوں کوہمیشہ معاف کیااور کبھی انتقام کی کارروائی نہیں کی۔اس طرح انہوں نے جنگ وامن دونوں حالات میں موجودہ بین الاقوامی قانون کاسنگ بنیاد رکھاتھا۔انہوں نے انسانی حقوق کے ساتھ ایک مہذب معاشرہ کی بنیاد ڈالی ۔
انہوں نے لوگوں کے اندر دشمنوں اور ان سے نفرت کرنے والوں کی خیریت معلوم کرکے عظیم انسانی قدروں کے احترام کاجذبہ پیداکیا۔انہوں نے اس بڑھیاکی بھی خیریت معلوم کی جوروزانہ اُن پرکوڑاپھینکاکرتی تھی۔حضورکاقول تھاکہ نیک انسان وہ ہے جس سے اس کاپڑوسی راضی ہو،وہ پڑوسی چاہے کسی ذات ومذہب کاہو۔حضورکے ذریعے طے شدہ رہنما اصولوں کے مطابق ہمارے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق ؓنے جنگ کے لئے اپنی فوج کوبھیجنے کے وقت اپنے سپہ سالاریزیدبن علی سفیان کوسخت ہدایت دی کہ بے گناہ عورتوں ،بوڑھوں،بچوں اور بیماروں کونہ تو چھونانہ نقصان پہنچانا،دشمن کے گھروں اورفصلوں کومت جلانا اور کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں کو مت گرانا(قرطبی)۔
قرآن پاک ایسی تمام آیتوں سے بھراپڑا ہے جو امن اورسلامتی کے مقصد کے حصول کی نشاندہی کرتی ہیں۔اس میں واضح طورپر لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوشیطانی حرکات یافتنہ پسند نہیں ہے (2-205)۔اس تحریر کامفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کوفتنہ اورتشدد سے دور رہنا چاہئے ۔ ہرمسلمان کاآخری مقصدجنت حاصل کرناہے اورقرآن کے مطابق جنت امن کامقام ہے(89-30)۔قرآن میں یہ بھی تحریر ہے کہ مذہبی معاملات میں طاقت کااستعمال ممنوع ہے(2-256)۔یہ بھی لکھا ہے کہ ہمارا مذہب ہمارے ساتھ ہے اورتمہارامذہب تمہارے ساتھ ہے(109-6)جس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب تنازعہ کی وجہ نہیں بننی چاہئے۔ قرآن میں سورہ مائدہ میں تحریرہے کہ ایک انسان کاقتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کرنے کے مساوی ہے اور ایک معصوم انسان کی زندگی بچاناپوری انسانی برادری کی زندگی بچانے کے برابر ہے۔ اسلام میں کافروں کوبھی کافر کہنے کے لئے منع کیاگیا ہے ،ان پرحملہ کرنا یاقتل کرنا تو دور کی بات ہے۔
آپ کا معمول تھا کہ کسی سے ملنے کے وقت ہمیشہ پہلے خود سلام اور مصافحہ کرتے ،رسول اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور شخصیت کا اگر مطالعہ کیا جا ئے تو پتہ چلے گا کہ آپ کی شخصیت ہر پہلو روشن ہے اور آپ کی پوری زندگی پریکٹیکل اور عملی ہے اور ہر شخص ان کی سیرت اور عمل کو اپنے لیے نمونہ بنا کرور ان پر عمل کر کے اپنی دنیا وی اور اخروی زندگی کو سنوار سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھے ، کسی کو برا بھلا نہیں کہتے تھے ، لوگوں کی غلطیوں پر غصہ نہیں ہوتے تھے بلکہ در گذر کرتے اور معاف کردیا کرتے تھے ، آپ نے کبھی بھی کسی سے اپنے ذاتی معاملہ میں انتقام نہیںلیا، آپ نے کبھی کسی غلام ، لونڈی، کسی بیوی، خادم یہاں تک کے جانور تک کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم یتیموں سے محبت رکھتے اور ان کے ساتھ بھلائی کی تاکید کرتے ، فرمایا: مسلمانوں کا سب سے اچھا گھر وہ ہے ، جس میںکسی یتیم بچے کے ساتھ بھلائی کی جارہی ہو اور سب سے خراب گھر وہ ہے، جس میں کسی یتیم کے ساتھ برائی کی جاتی ہو۔آپ فرماتے تھے کہ تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں ، جن کے اخلاق اچھے ہی